آخری محبت

آخری محبت

میری جان میں کیسے رہ سکتا ہوں اس بوجھ کے ساتھ؟

تمہیں رہنا پڑے گا۔

میں نہیں رہ پاؤں گا۔

رہ سکتے ہو۔

تم کیسے رہو گی میرے بغیر؟

رہ لوں گی۔

دیکھو میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا۔ ایک تم ہی نہیں جو اس اذیت سے گُزر رہی ہو۔ ہم دونو ں مبتلا ہیں ۔ اور ہم  مل کے ہی  سب ٹھیک کر سکتے ہیں۔

اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ مجھے معاف کرنا۔

میری جان ۔۔ خُدارا!

اپنا خیال رکھنا  ۔ چلتی ہوں  خُدا حافظ!

آخری محبت

                                                            اب کی بار میں اتنا ٹوٹا تھا کہ شاید جُڑنے میں صدیاں بیت  جاتیں۔  یہ درد اتنا تھا کہ  زندگی میں پہلی بار مجھے میرے گُذشتہ گناہ بھی اس کے ایک جُرم سے چھوٹے لگنے لگے۔ میں اس کے معاملے میں اتنا حساس تھا کہ کبھی اس کے بارے کوئی غلط  گمان اگر میرے ذہن میں آیا بھی تھا تو   مرے دل نے فی الفور اُسے رد کر دیا۔ اس بار تو وہ لکھتی گئی اور میں پڑھتا گیا۔ اس کا ایک ایک لفظ میرے دل کو پارا پارا کرتا رہا لیکن میں پڑھتا رہا کیوں کہ جانتا تھا حقیقت سے بھلا کون چھُپ سکتا ہے۔ حقیقت جتنی بھی تلخ ہو آخر تسلیم تو کرنی ہی پڑتی ہے۔ مگر جب یاد آتا تھا اُس کو اور اُس کی محبت کو لے کر میرا غرور اور میرا مان تو قسم جانو  ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میرے پیروں  تلے زمین کھینچ لی گئی ہو۔ اُس روز میں نے اپنا مان اور غرور ٹوٹتے دیکھا۔

                                                   اس سانحے سے میں ابھی گُزر ہی رہا تھا کہ میں نے اُس کی چَیٹ دیکھی تو وہ آف لائن ہو کے  چلی گئی تھی۔ اس بار اُس نے بُلاک کیوں نہیں کیا؟  اب دل ہی دل میں یہ سوال مجھے کھانے لگا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی  اس نے مجھے بُلاک تک نہیں کیا۔ رات کے اُس پہر جیسے کوئی سورج کی کرن  دکھائی دی ہو۔  اس کے بعد نہیں معلوم کیا ہوا بس اتنا یاد ہے کی رات گہری اور  لمبی تھی  ۔  کچھ گھنٹوں کے لئے میں اس امید میں سو گیا کہ شاید کل کا سورج  مجھ پر گراں ثابت نہ ہو ۔ صبح جب آنکھ کھلی  پہلی فرصت میں موبائل دیکھا  اور اُسے میسج کر دیا

گُڈ مارننگ!

سمائلی۔

بڑے سکون سے سو گئی تھی تم۔

ہمم۔۔۔

میں رات کے لئے تم سے معافی مانگتا ہوں۔

اٹس اوکے۔ آپ کی غلطی نہیں تھی۔

میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔

کون رہ سکتا ہے؟

پھر تم نے رات کیوں کہا ایسا ۔

سوری!

میری جان! جو ہو گیا بھول جاؤ بس۔

ہاں بھول رہی ہوں۔

لیکن ایک بات یاد رکھنا میں اُس بات کے لئے  تمہیں کبھی معاف نہیں کر سکتا ۔

مجھے نہیں ہے ضرورت معافی کی۔

یاد رکھنا یہ دُکھ بہت گہرا ہے اور صرف میرا ہے۔ مرتے دم تک معاف نہیں کر پاؤں گا ۔

نہیں چاہیے معافی۔

لیکن مجھے چھوڑ کے تو مت جاؤ۔

کوئی نہیں جا رہا کسی کو چھوڑ کے۔

آئی  لوو  یو  یار۔

فار ایور۔۔۔

                                                          یہ تب کی بات ہے جب حُسن پرستی بھی اپنے عروج پر تھی اور  فطرت میں کم ظرفی بھی ۔  کہتے ہیں کہ محبت صرف ایک سے ہوتی ہے جسے ہم پہلی محبت کا عنوان دیتے ہیں۔ خیر ہو گا  ممکن ہے کہ عُشاق کے یہ دلائل بھی  منطقی ہوں۔ مگر میرے ہاں کیس ہی مختلف تھا۔ مجھے تو کئی محبتوں سے دوچار ہونا پڑا۔ اب اسے کوئی حُسن پرستی کہے یا  حوس  پرستی سچائی تو یہی تھی۔      مانا کہ زندگی میں بہت سے حسین لوگوں سے واسطہ پڑا مگر وہ خاص لوگ جو جاتے جاتے گہرے نقش  چھوڑ جاتے ہیں  بڑا احسان کرتے ہیں۔ ایسے چند ایک احسان مجھ پر بھی ہوئے  انھی احسانوں کے بوجھ تلے دل اتنا اُداس اور بے بس تھا کہ بس بغاوت کرنے کی ٹھان رکھی تھی۔  کوئی تو ہو جو اس دل کو سمجھے کوئی تو ہو جو تسلی دے کوئی تو ہو جو سہارا بخشے آخر کوئی تو ہو جو اپنا کہے۔  بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ سکون نہ تھا جو اس دل کو چاہیے تھا۔  کبھی کبھار خلوت کے لمحوں میں یہ  معلوم ہوتا تھا کہ میری روح تو  صدیوں سے کسی اپنے کی تلاش میں در بدر بھٹک رہی ہے۔ اب تو حالت یہ تھی کہ مجھے خوف آنے لگا کہ کہیں روح جسم سے ہی اعلانِ بغاوت نہ کر دے۔

                                                      اک خراب حال آوارہ  اور حوس پرست انسان  کا  شہرِ الفت میں مقصد تو حصولِ علم تھا مگر  محبت کے تجربات سے نوازا گیا ۔  اُس شہر سے الفت تو بہت پہلے سے تھی مگر اس الفت کو محبت اور محبت کو عقیدت کے ارتقائی  مراحل سے گزارنے میں جوانی کی عمر کا ایک اہم حصہ گنوانا پڑا۔ یہ کلاس کا پہلا دن تھا۔  اپنے شہر کے واقف تو کچھ  انجان  چہرے اور کچھ شہرِ الفت کے رنگ برنگے لوگ سبھی   کلاس میں بیٹھے سوچ رہے تھے  کہ راستے تو دو ہی ہیں یا تو سب کچھ فراموش کر کے نصابی کتابوں پر ہی مر مٹیں کہ مستقبل ان کے  پیچھے بھاگے۔ یا پھر مستقبل کو ہی فراموش کر کے  کیوں نہ کتابوں کو ہی اپنی داستانوں سے بھر دیں۔ در در کی ٹھوکریں کھاتا شخص  مستقبل سنوارنے آیا تھا تو ظاہر ہے اس نے راستہ تو پہلے سے ہی چُن رکھا تھا۔ کیوں کہ اس کے تمام مسائل کا حل اُس کا بہتر مستقبل ہی ہو سکتا تھا۔

    میں جتنا  حُسن پرست تھا   اتنا ہی  انا پرست کہ کبھی  کسی کو آنکھ  اُٹھا کے نہ دیکھوں کہ دوسرا میرے بارے یہ گمان نہ کرنے لگے کہ شاید  میں کسی میں دلچسپی لے رہا ہوں۔ اسے میں معیوب سمجھتا تھا یا شاید ڈرتا تھا کہ کہیں پھر سے ان تکلیف دہ مراحل سے نہ گزرنا پڑے  جن مراحل سے میں کئی بار گزر کر سنبھلا تھا۔ چاہت اور مقدر میں کیا فرق ہے؟  فزکس میرا پسندیدہ مضمون تھا مگر مقدر نے کیمسٹ بنا دیا یہی فرق ہے۔فزکس مجھ پر گراں اس لئے نہیں تھی کہ اس کے قانون ، منطق اور دلائل مجھے حقیقی لگتے تھے اور ان پر پروفیسرز سے بحث کرنا مجھے پسند تھا۔  مگر میرا  اس طرح سے بحث کرنا کسی اور کو پسند تھا  میں اس بات سے نا واقف تھا۔

                                                     اس دن میں معمول کی مطابق کلاس میں داخل ہوا  اور درمیان   والی  قطارمیں  پڑی کرسیوں میں سے کسی ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔ جب تک  پروفیسر صاحب نہ آئے میں اپنے دوست شاہ جہان سے باتیں کرتا رہا۔ پھر کچھ دیر بعد پہلا لیکچر شروع ہوا ۔ اور ہم متوجہ ہوگئے اُس کے بعد میرے  پسندیدہ فزکس کے پروفیسر کا لیکچر تھا جس کا میں بہت مشتاق رہتا تھا۔ آخر پروفیسر صاحب کلاس میں داخل ہوئے اور  اپنے  پُر جوش انداز میں پڑھانے لگے۔ بڑی توجہ سے میں ان کا لیکچر اس امید سے سن رہا تھا کہ کہیں کوئی ایسا نقطہ آئے جس پر میرے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہو اور پھر پروفیسر صاحب سے بحث چھڑے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ کوئی اور  بھی میرے سوالات کا منتظر ہے۔  لیکچر کے دوران اچانک میری نظر  دوسری طرف کی کرسیوں کی قطاروں میں بیٹھی  لڑکیوں میں سے  ایک لڑکی پر پڑی جو دیوار کے ساتھ آخر میں  بیٹھی پیچھے مڑ کر مجھے دیکھ رہی تھی۔  فوراً میں نے نگاہ گھمائی اور لیکچر پر متوجہ ہونے کی ناکام کوشش کی مگر پھر سے میری نگاہ اس طرف گئی  تو معلوم ہوا وہ لڑکی مجھے ہی دیکھ رہی ہے۔

  اس بار میں نے دل ہی دل میں یہ سوچ لیا کہ شاید یہ میرا وہم ہو گا  تو میں نے اپنی پوری توجہ  وائیٹ بورڈ پر مرکوز کر دی۔  اب کہاں سکون ملنا تھا؟ حیرت زدہ دل کو  اس سانحے  کے اسباب  اور مقاصد بھی تو معلوم کرنے تھے۔  ہاں میں نے دیکھا تیسری بار خود دیکھا اور غور سے دیکھا  اتنا دیکھا کہ میری  چشمِ ناتواں شرم کے مارے ڈوب گئیں لیکن   ہمت اُس شخص کی کہ اس کی نظروں میں ذرا سی جنبش  بھی نہ  آئی اور وہ دیکھتی چلی گئی۔ شاید ایک مدت سے وہ اس آس میں تھی کہ کبھی میں اس کی طرف نظر اُٹھا کے دیکھوں گا بھی سہی؟  آج اس کی محنت رنگ لائی۔  شاید کسی قبولیت کے لمحے میں اُس نے مجھے  خدا سے مانگا  ہوگا۔ یا شاید خدا کو ہی یہی منظور تھا کہ اُس نے کُن کہہ کر میری نظریں اس کی طرف  پھیر دیں۔  میں نہیں جانتا کہ اس میں اُس شخص کی دعا  شامل تھی یا خُدا کی عطا مگر اُس  شخص کا یہ شکوہ مجھے یاد ہے کہ یار تم مجھے دیکھتے کیوں نہیں تھے میں توکئی عرصے سے اس  حسرت میں تھی کہ کبھی تم مجھے دیکھو گے بھی سہی؟

                                                     میں واپس اپنے ہاسٹل  چل دیا دل میں اک حیرت  اور آنکھوں میں   بڑی حسرت تھی کہ آخر وہ کون ہو گی ؟ کہاں کی ہو گی؟ کہیں وہ میری جاننے والی تو نہیں تھی جسے میں پہچاننے سے منکر تھا؟ کہیں وہ مجھ سے کچھ کہنا تو نہیں چاہتی تھی؟  اُسے مجھ سے کیا چاہیے ہو گا؟ واقعی وہ مجھے دیکھ رہی تھی یا کسی اور کو؟  یہ پہلی بار ہوا کہ اتنے سوالات میرے دماغ سے نہیں  بلکہ دل سے نکل رہے تھے۔ افسوس کہ کسی ایک سوال کا جواب بھی میرے پاس نہ تھا۔

خانی ! یار تمہیں تو مائگرین ہے تم ایسی چیزیں کیوں کھا رہی ہو ۔ ڈاکٹر نے منع  کیا ہے نہ؟

مجھے زہر پسند ہے۔

( ایک لمحہ سکتہ طاری رہنے کے بعد)  مغربی آرام گاہ میں دربار کے ساتھ بڑے پیڑ کے دائیں طرف ٹیلے پر پڑی چند اپنوں کی قبروں کے ساتھ ایک قبر میری بھی ہو گی۔ آ جانا کبھی دنیا میں نہ مل سکیں تو۔

کیا آپ اپنی بکواس بند کر سکتے ہیں؟

اگر آپ اپنی بند کر سکیں تو۔

سوری!

جب تم پہ مرنے والے لوگوں کو تم مرتا چھوڑ دو تو وہ لوگ مرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

تم ایسی باتیں کیوں کررہے ہو یار مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔ کیوں بار بار مجھے وہ سب یاد دلاتے ہو؟

پہلے تو تم نے بات ہی غلط کی دوسرا میرا مقصد یہ تو ہر گز نہ تھا کہ تم وہ سب یاد کر کے خود کو تکلیف دو۔ میں تو بھول چُکا ہوں اپنے ماضی کو۔ میں اگر گُزرے لوگوں کو یاد بھی کروں تو مجھے  ان کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تم بتاؤ کہ  تمہیں اپنا ماضی یاد کر کے کیوں تکلیف ہوتی ہے؟ تمہیں کیوں فرق پڑتا ہے آج بھی؟

وقت لگے گا بھولنے میں ۔ میں سو رہی ہوں ۔ خُدا حافظ!

حالت اگر ایسی ہی رہی تو مرنے میں کوئی دقعت پیش   نہیں آئے گی۔

 

اب تو لگتا ہے کہ آنکھ لگتے ہی

زندگی سے بھی ہار بیٹھیں گے

 

تحریر:   زیب حسن سیال                                                                                 

Sharing is Caring! Spread the love ❤

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *